اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایٹمی انرجی کی عالمی اینسی کے سربراہ یوکیاآمانو سنیچر کی رات تہران پہنچےجن کا آئی اے ای اے میں ایران کے مستقل نمائندے رضانجفی نے استقبال کیا۔ یوکیاآامنو آج اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام سے ملاقات اور گفتگوکریں گے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ کے دورہ تہران کے سلسلے ميں بہت سے سوالات و شکوک پیدا کئےجارہے ہیں لیکن ان میں سے اکثر سوالوں کا تعلق آئي اے ای اے کے سربراہ کے دورہ تہران کے مقصد سے ہے۔
مسلمہ امر یہ ہے کہ یوکیاآمانو، ایران اور آئی اے ای اے نیز ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ابتدائی سمجھوتے کے تناظر میں تہران کا دورہ کررہے ہيں۔
جنیوا معاہدے پرگذشتہ برس چوبیس نومبر دوہزارچودہ میں دستخط ہوئے تھے۔ جنیوا معاہدے پردستخط کے بعد ایران اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے تہران میں ہونے والے معاہدے پردستخط کی بنیاد پر، ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ممکنہ شکوک وشبہات دور کرنے اورکچہ سوالات کےجواب دینے کےلئے کچہ اقدامات انجام دیئے ہیں۔
ان اقدامات میں یورے نیم کی افزودگی بیس فیصد سے کم کرکے پانچ فیصدکردینے، نطز و اراک میں ایٹمی تنصیبات کے معائنے تک مزید دسترس اور سینٹری فیوج مشینوں کی تعداد اور صلاحیت کومعین کرنے پرایران کا اتفاق ہے۔ اس کے مقابلے میں گروپ پانچ جمع ایک نے بھی ایران پرسے بعض پابندیاں اٹھائے جانے اور غیرملکی بینکوں میں موجود ایران کے منجمد کچہ اثاثوں کوآزاد کئے جانےکے سلسلے میں اقدامات کئے ہیں۔
اس وقت ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان تیئس اگست تک تکنیکی اور ماہرانہ تعاون کاآخری مرحلہ انجام پانے والا ہے جس پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی آخری قدم اٹھانے والی ہے اور ایران کے رضاکارانہ اقدامات سے ایٹمی مسئلے کےجامع راہ حل کے سلسلے میں کچہ پیشرفت ہوئي ہے، لیکن اس کے عوض آئي اے ای اے سے ایران کی بھی کچہ توقعات ہيں۔ لہذا مشترکہ موقف تک پہنچنے کے لئے نظریات کونزدیک کرنے کی غرض سے یوکیاآمانو کا دورہ تہران ایک استثنائي موقع ہے۔اس سلسلے میں ایران کی جانب سے اٹھائے جانے والے بعض سوالات ایسے ہیں جن کا تعلق آئي اے ای اے کی ذمہ داریوں سے ہے اوراس ادارے کی توانائیوں کے دائر میں ہیں۔
آئی اے ای اے اس نکتے سے واقف ہے کہ ایران کو این پی ٹی کے تناظر میں یورے نیم کی افزودگی سمیت ایٹمی سرگرمیاں انجام دینے کا حق ہے۔ اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ نےگذشتہ مہینے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ ایران اس سمجھوتے کے سلسلے میں اپنے معاہدوں اور آئي اے ای اے کے قوانین پر عمل درآمد کا پابند ہے۔
اسی طرح این پی ٹی معاہدے کی چوتھی شق کے مطابق آئی اے ای اے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کےحامل ممالک کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ تمام ممالک کے لئے ایٹمی انرجی کے پرامن استعمال کے حق پر عمل درآمد کوآسان بنائے۔ دوسرے لفظوں ميں یوں کہا جاسکتا ہے کہ آئی اے ای اے کو یہ ثابت کرناچاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں پرعمل کے سلسلے میں کس حد تک آزاد ہے اور سیاسی دباؤ کے زيراثرآکر فیصلے نہيں کرتی۔
دوسرا مسئلہ جو اس تناظر میں اہمیت کا حامل ہے وہ بحالی اعتماد کاہے اور یہ بحالی اعتماد، ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے نتیجہ خيز ہونے کے لئے کلیدی کردار کی ہے۔ اس بنا پرتوقع ہے کہ آئی اے ای اے بحالی اعتماد کے لئے باہمی قدم اٹھا کرایران کے ایٹمی مسئلے کو اس تعطل سے باہر نکالنے کی کوشش کرے جو اس نے خود پیدا کیا ہے۔اس صورت میں ماضی کے عمل میں تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے اور یوکیاآمانو کے دورہ تہران میں اس تبدیلی کی سطح کااندازہ لگایاجاسکتا ہے۔
.......
/169